18

اے جی پی کا پنجاب حکومت کو خط

سابق وزیراعظم نواز شریف۔  تصویر: Geo.tv/ فائل
سابق وزیراعظم نواز شریف۔ تصویر: Geo.tv/ فائل
  • اے جی آفس کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی ہیں۔
  • اے جی آفس نے پنجاب حکومت کے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کو نواز شریف کی نئی رپورٹس فراہم کرنے کا کہا ہے۔
  • اے جی آفس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف بھائی نواز شریف کی وطن واپسی کے ضامن ہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو خط لکھا ہے۔ جیو نیوز اطلاع دی

مسلم لیگ (ن) کے سپریمو نواز شریف اپنی بیماری کے بعد نومبر 2019 میں لندن روانہ ہوئے، کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔

اے جی آفس کے خط کے مطابق امریکی ڈاکٹر فیاض شوال نے 28 جنوری کو نواز شریف کی صحت سے متعلق نئی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں جمع کرائیں۔

لہٰذا پنجاب حکومت کی جانب سے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کو نئی رپورٹس فراہم کی جائیں تاکہ میڈیکل بورڈ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے اپنی ماہرانہ رائے دے سکے۔

پنجاب حکومت نے جنوری میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں جمع کرائی گئی مسلم لیگ (ن) کے سپریمو نواز شریف کی صحت کی رپورٹس کی جانچ کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

اے جی آفس کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سپریمو نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ نے ان کی مزید میڈیکل رپورٹس طلب کی ہیں تاکہ ان کی صحت کی تشخیص کی رپورٹ پیش کی جا سکے۔

ایک بار جب میڈیکل بورڈ نواز شریف کی صحت کی حالت پر اپنی سفارشات جمع کرائے گا، اے جی کا دفتر شہباز شریف کے خلاف کارروائی کا اگلا لائحہ عمل وضع کرے گا کیونکہ انہوں نے نواز شریف کے ضامن کے طور پر لاہور ہائی کورٹ میں حلف نامہ جمع کرایا ہے۔

اے جی آفس کے مطابق شہباز شریف بھائی نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں وطن واپسی کے ضامن ہیں اور وفاقی کابینہ نے اے جی آفس کو شہباز شریف کے جعلی حلف نامے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے 4 ہفتے کی مہلت دی تھی تاہم وہ وطن واپس نہیں آ رہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جنوری میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو وطن واپس لایا جائے۔

فواد نے کہا کہ یا تو شہباز شریف نواز کو پاکستان واپس آنے کا کہیں یا اس حوالے سے جعلی حلف نامہ دینے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ۔۔۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ منگل کو لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں جمع کرائی گئی جس کے مطابق ڈاکٹروں نے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ رپورٹ انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض شال نے تیار کی ہے اور ایڈووکیٹ امجد پرویز کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو ان کی انجیو گرافی تک لندن میں ہی رہنا چاہیے کیونکہ اس سے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔

نواز شریف کیس کی ٹائم لائن

  • 26 اکتوبر 2019: نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں انسانی بنیادوں پر عبوری ضمانت دی گئی۔
  • 26 اکتوبر 2019: نواز شریف کو دل کا ہلکا دورہ پڑا، پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
  • 29 اکتوبر 2019: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا طبی بنیادوں پر دو ماہ کے لیے معطل کر دی گئی۔
  • انہیں نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کر کے جاتی امرا منتقل کر دیا گیا۔
  • 8 نومبر 2019: شہباز شریف نے وزارت داخلہ سے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست کی۔
  • 12 نومبر 2019: وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی مشروط اجازت دے دی۔
  • 14 نومبر 2019 کو مسلم لیگ (ن) نے انڈیمنٹی بانڈ کی شرط کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
  • 16 نومبر 2019: لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
  • 19 نومبر 2019: نواز شریف اپنے علاج کے لیے لندن روانہ ہوئے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں