11

کیا ہندوستان کو اس طرف لیکر جابا چاہتے ہے جو سنہ 71 کی فلم میں ۔ جس شعر گو زینت امان نے گایا تھا ۔ دم مارو دم مٹ جائے ہم بولو صبح و شام ہرے کرشنہ ہرے رام ، مولانا راجانی حسن علی

نئی دہلی : مورخہ 9 فرودی / اپنی شیرنیوں کےساتھ سید عظمی پروین عرف جھانسی کی رانی کے بیان کی دہلی کے اوکھلا وستار سے جناب سید سجاد حسین نے تعریف کی جس میں کہا گیا کہ ہم سے یہ حق چھیننے کی کوشش بھی کی گئی تو پورے دیش کے عورتیں سٰڑکوں پر آجائیگی مزید سید سجاد حسین نے شاہین باغ کی۔عورتوں کے احتجاج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ایسے ہی بیدار رہنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا احتجاج ہہ یہ ہیکہ ہمارے ملک کی ساری خواتین باپردہ ہوجائے اس سے نہ بڑا کوئی احتجاج ہے اور نہ اس سے بڑی کوئی نیکی ہے واضح رہیکہ اکبر الہ آبادی کا شعر کہ ‘ پردہ ہے پردہ’ پردہ کے پیچھے پردہ نشیں ہے’ کو مولانا راجانی حسن علی نے حجاب کے سمرتھن میں دوہرایا تھا اس کو بھی دیش دنیا کے پیپروں نے جگہ دے کر اس احتجاج کا حصہ بننے پر مولانا راجانی نے شکریہ ادا کیا مولانا راجانی نے پھر ایک اور شعر جو سنہ 71 کی فلم میں زینت امان نے گایا تھا ۔ دم مارو دم مٹ جائے ہم بولو صبح و شام ہرے کرشنہ ہرے رام ، پر بھی بولے کہ کیا ہمارے ملک کو اس نہج تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ آخر میں مولانا راجانی نے حدیث پیغمبر اکرم آخرالزماں کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ اسلام میں تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، چاہے وہ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں اور ان کا کسی بھی رنگ و نسل اور وطن سے تعلق ہو، جو کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے وہ بہ حیثیت مسلمان ہمارا دینی بھائی ہے

From New Delhi Hasan Bhai +919998269850

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں