25

کراچی سپر اسٹور میں لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا جاسکا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے جمعرات کو کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بجھائی نہیں جاسکی۔

کراچی میں جیل چورنگی کے قریب معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور کے تہہ خانے میں آگ لگنے سے دھواں اٹھنے سے ایک شخص جاں بحق اور تین بے ہوش ہوگئے۔

ایک بیان میں وزیر نے کہا کہ کمیٹی آگ لگنے کی وجہ معلوم کرے گی۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سندھ حکومت کراچی کے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں آتشزدگی سے متاثر ہونے والے تمام افراد کو معاوضہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ گودام کے اوپر واقع کثیر المنزلہ عمارت کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے معائنہ کے لیے خالی کر دیا ہے۔

کراچی سپر اسٹور میں تھرڈ ڈگری آگ لگنے کے بعد کمشنر کراچی نے بھی عمارت کو ’خطرناک‘ قرار دے دیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فائر بریگیڈ حکام نے ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں تھرڈ ڈگری آگ لگنے کا اعلان کیا تھا اور شہر بھر سے فائر انجنیں آگ پر قابو پا رہی ہیں۔ آگ بجھانے کا حصہ۔

آپریشن کے دوران پاک بحریہ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔

.

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں