16

پردہ ہے پردہ، پردے کے پیچھے، پردہ نشیں ہے

نئی دہلی : مورخہ 7 فروری / مولانا راجانی حسن علی نے کہا کہ کرناٹک کا حجاب کا معاملہ آج پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور مزید اس میں فتنہ فساد ابھرنے کے خدشاط ہیں ۔ مولانا راجانی نے کہا کہ حجاب کی آڑ حجاب میں ہی کوئی سازش چھپی ہے جسے سامنے لائی جائے اورجنوبی ریاست کرناٹک کی حکومت نے یونیورسٹی، کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دینے کا نیا حکم نامہ جاری کرنے کا حکم دیا ہے اس پر غور و خوض کیا جائے ۔ریاست کرناٹک میں گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجوں میں حجاب پر طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف ہے لیکن اس معاملے پر سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے یہاں تک کہ انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے گذشتہ روز ٹویٹ کیا کہ ’طالبات کے حجاب کو ان کی تعلیم کے درمیان لانے کا مطلب انڈیا کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکہ زنی ہے۔‘ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ حجاب کی مخالفت بند کی جانی چاہیے جبکہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں