23

پاکستان کو 8000 میگاواٹ سے زائد بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

پاور پلانٹس کو ابھی بھی مائع قدرتی گیس (LNG) اور فرنس آئل کی مطلوبہ مقدار فراہم نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی قومی کمی ہے۔

شدید گرم موسم کے درمیان، رمضان کے مقدس مہینے میں بجلی کی بندش نے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے کیونکہ پاکستانی 12 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔

مزید پڑھ: ای سی پی: سینیٹر گیلانی کے خلاف کیس کے حقائق درست طریقے سے پیش نہیں کیے گئے۔

تمام شہری مراکز، جیسے کراچی، حیدرآباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، اور سیالکوٹ میں آدھے سے زیادہ دن کی لوڈشیڈنگ اور دیہی علاقوں میں 12 گھنٹے سے زیادہ کی لوڈشیڈنگ کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔

ملک بھر کے پاور پلانٹس میں تکنیکی مسائل اور ایندھن کی کمی کے باعث بجلی کا شارٹ فال 8500 میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی کا سامنا ہے جس سے بجلی کے شارٹ فال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

دریں اثناء رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے ملک بھر کے عوام کا جینا جہنم بنا دیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ بجلی کی مجموعی پیداوار 18700 میگاواٹ پر برقرار ہے جبکہ بجلی کی طلب 27200 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

طویل لوڈ شیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث روزمرہ کے کام بالخصوص سحری اور افطاری کے اوقات میں کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام مسائل حل کرنے کے بعد یکم مئی تک ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بندش کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گرمی کے موسم میں لوڈ شیڈنگ سے عوام کو مشکلات میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

.

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں