32

فاطمہ شیخ، 18ویں صدی میں خواتین کی تعلیم کی حمایت کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون

  مہوا، 28 اپریل: گجرات کے ساحلی شہر مہوا کی فاطمہ بین کڈک نے کہا کہ ملک میں خواتین کی تعلیم کی علمبردار اور لڑکیوں کے پہلے اسکول کی بانی ساوتری بائی پھولے کو ہر کوئی جانتا ہے۔  لیکن فاطمہ شیخ کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔  اٹھارویں صدی میں ہمارے ملک میں حقوق نسواں کی تعلیم ناقابل تصور تھی۔  لڑکیوں کی تعلیم کو گناہ سمجھاجاتا تھا ، اس وقت ساوتری بائی پھولے نے ان روایات کی عملی طور پر مخالفت کی اور پھر بیک وقت ایک چراغ سے کئی چراغ جلتےگئے۔  لیکن ان دنوں کام کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔  ساوتری بائی کا سماجی اخراج اور ان کا مکمل مائکاٹ کیا گیا ان کو گھر سے نکالا گیا ۔  ان حالات میں عثمان شیخ اور ان کی بہن فاطمہ شیخ کے خاندان سب سے پہلے ہمدرد بن کر آگے آئے۔  اور خود فاطمہ شیخ نے ساوتری بائی سے تعلیم حاصل کی اور پھر وہ ساری زندگی ان کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل رہی ۔  انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں، ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ پڑھائی بند کر دیں یا انہیں گھروں سے نکال دیا جائے۔  لیکن ساوتری بائی اور فاطمہ شیخ نے ہمت نہیں ہاری اور اس نے پونے، مہاراشٹر میں لڑکیوں کا پہلا اسکول فاطمہ شیخ کے ساتھ  01/01/1848  ایک جنوری اٹھارہ سو اڑتالیس میں قائم کیا، جو اس وقت اسکول کی بانی ساوتری بائی پھولے کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔  فاطمہ شیخ نے بیواؤں کی شادی، ان کی بحالی اور خواتین کے حقوق کے ساتھ ساتھ عدم مساوات کے خلاف عملی قدم اٹھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں