28

سپریم کورٹ کے جج کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63(G) کی خلاف ورزی انحراف سے بڑا جرم ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان۔  - ایس سی ویب سائٹ
سپریم کورٹ آف پاکستان۔ – ایس سی ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے منگل کو حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے سابق وکیل بابر اعوان کے دلائل کے جواب میں کہا کہ فوج کی توہین سے متعلق آرٹیکل 63 (جی) کی خلاف ورزی انحراف سے بڑا جرم ہے۔ آرٹیکل 63(A) کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس کی سماعت۔

چیف جسٹس پاکستان (سی جے پی) عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے ریفرنس کی سماعت کی۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت بدھ کی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے آغاز پر اعوان نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

اعوان نے کہا، “آرٹیکل 63(A) کا مذاق اڑایا جائے گا اگر کوئی قانون ساز ڈی سیٹ ہو جائے اور دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وزیر بن جائے۔”

انہوں نے کہا کہ کسی کی پارٹی سے انحراف ایک سنگین جرم ہے۔

جس پر جسٹس میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ ان کی نظر میں آرٹیکل 63 (جی) کی خلاف ورزی بڑا جرم ہے۔

اعوان نے کہا کہ یوٹیلیٹی بلز کا نادہندہ بھی قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل ہے۔

جس پر جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا امیدوار الیکشن سے قبل بل ادا کرے گا تو وہ نااہل رہے گا؟

جسٹس احسن نے ریمارکس دیئے کہ یوٹیلیٹی بلز کی عدم ادائیگی امیدوار کو تاحیات نااہل نہیں کر سکتا یعنی بلوں کی منظوری کے بعد نااہل ہو جائیں گے۔

دریں اثنا، اعوان نے کہا: “قانون سازوں کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے گا اگر آرٹیکل 63 (A) نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کرتا ہے۔”

جسٹس احسن نے یہ کہتے ہوئے ان کی تصحیح کی کہ “قانون ساز اس وقت تک نااہل رہیں گے جب تک سپریم کورٹ (ایس سی) نااہلی کو منسوخ نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی صرف آرٹیکل 62(F)1 کے تحت دی جا سکتی ہے۔

تاہم، انہوں نے اعوان کو بتایا کہ عدالت نے ان کی بات کو نوٹ کیا ہے۔

جسٹس احسن کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس اختر نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 63 (اے) اور 62 (ایف) ون میں کیا تعلق ہے؟

سماعت کے دوران جسٹس احسن نے ریمارکس دیئے کہ جب تک سپریم کورٹ نااہلی منسوخ نہیں کرتی تب تک قانون ساز نااہل رہیں گے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں