35

امام خمینی صاحب کی تیتیسویں برسی پر مولانا حسن علی راجانی کا ایک اہم اور تاریخی بیان

نئی دہلی : مورخہ 4 جون / امام خمینی صاحب کی تیتیسویں برسی پر مولانا حسن علی راجانی نے تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی صاحب ایک ایسا زندہ دل انسان تھے جس کی اس صدی میں تو کوئی مثال نہیں مل سکتی اور دوسرے وہ لوگ بھی قابل تعریف ہیں جنھونے اس انقلاب کو اب تک زندہ اور پائیندہ رکھا ۔ مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ امام خمینی صاحب کہتے تھے کہ دوسرو سے زیادہ مجھے اپنوں نے زیادہ اذیتیں دی ہیں۔ اس پر مولانا حس علی راجانی نے کہا کہ آج بھی اس کے نمونہ ہمیں بھارت جیسے ممالک میں ملا آقائ مہدی مہدوی پوری جو ایران کلچر ھاؤس دہلی کے سربراہ ہے ان کی شکل میں مل جاتے ہے اور وہ ایران کی طرف سے ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان کے نمائندے ہے اور ان کبلے عام ہیکہ وہ جس مولوی کی چاہتے ہے پٹائی کروا دیتے ہے اور ہندوستان کے ہر سیٹھ آدمی کو انھونے اپنے چنگل میں ایران کے انقلاب کے نام پر پھنسا کر رکھا ہیں ۔ اور ان سے اپنے کام دکھلا کر کروڑوں روپیہ اینٹھتا بھی ہے اور ہندوستان میں اربو روپیہ کی شاپینگ سینٹر، دوکانیں، ہال، اور پلاٹس، وغیرہ ہندوستانی مولویوں کے نام پر خرید رکھا ہے اور بھارت کے شیعہ غریب مولویوں اور بہت سے امام جمعہ کو ماہانہ ہزار دو ہزار روپیہ دیکر اپنے قصیدہ تو پڑھواتا ہی ہے اوپر سے ان عالموں کو ذلیل بھی کرتا ہے اور ان میں کے جو عالم دین اپنے گاؤں شہر کےتاجروں اور مخیر حضرات کے نام پتے بتائیں یا ان کو لیکر آئے تو تو پھر انکا احترام اور مہمانداری بھی ہوتی ہے مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ میں اکثرو بیشتر بیرون ممالک کے سفر کے سفر کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی میرے بڑے بڑے لوگوں سے تعالقات ہیں تو وہ مجھ سے پارٹیاں مانگتا رہتا ہیں اور ہمیشہ اس نے مجھ سے بھیک ہی مانگی ہے کہ ہم بہت پریشان ہیں اور اب تو ہمارے کھانے پینے تک کی بھی دشواریاں ہیں اور آپ ہمارے لئے کچھ نہ کچھ کیجئے وغیرہ وغیرہ ۔ مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ میں بہت بار دہلی میں واقع ایران کلچر ھاؤس گیا تو مہدوی پوری سے لیکر باورچی وغیرہ سب مجھے گھیر لیتے ہیکہ آپ ہمارا کام کرائے جس سے مجھے کو بہت تکلیف ہوئی مولانا حسن علی راجانی نے چاہا کہ اس کی شکایت مہدی مہدوی پوری کو کریں تو راجانی نے سوچا کہ یہ ملا مہدی مہدوی پوری تو خود ہی مجھ سے آئے دن بھیک مانگتا رہتا ہے اور ان کا پورہ عملہ مجھے اپنے اپنے کام دکھاتا رہتا ہیں تو اب ان سے کیا شکایت کرنا تو مولانا نے ایران کلچر ھاؤس دہلی سے دوری اختیار کر لی تو پھر انہونے مولانا راجانی کی پٹائی اور بلیک میلینگ کے سلسلہ شروع کر دیئے اور آج تک پوری دنیا میں ملا مہدوی پوری جیسے شیعہ مسلمانوں کو بلیک میل کرتا ہے اور پوری دنیا میں کوئی ایک بھی شیعہ کسی مجبوری یا مصلحت کی بنیاد پر ایران کا قصیدہ نہ پڑھے اور بڑے لوگ انہیں پیسہ نہ دیں تو یہ بھیکاری علماء ان کو ضد انقلاب اور شیعہ ریاست کے دشمن کے ساتھ اس واجب القتل سمجھتے اور اسی ایرانیوں کے بیجا قصیدہ پڑھنے کی وجہ سے پاکستان سعودی عرب اور افغانستان یہاں تک کہ پوری دنیا میں جہاں شیعہ اقلیت در اقلیت ہیں وہ بیچارے گاجر مولی کی طرح ایران کے نام سے کٹتے رہتے ہیں لیکن ایران کو اپنے قصیدہ پڑھوانے اور فوٹو لگوانے کا بھوت نہیں اترا ہے اور آج اس کی چھوٹی سی مثال فلم دا کشمیر فائلس میں مل جائیگی کہ دیشت گردو کے ہاتھ میں ایران کے مولانا کی فوٹو ہے جب کہ عراق کے عالموں میں کوئی ایک ایسی مثال نہیں ملتی ہیں خود مسلمانوں کے اٹھاون ملک ہیں لیکن کسی بھی مسلمان کو کسی ایک ملک کے قصیدہ پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ اٹھاون ملک میں کوئی ایک ملک اپنے برادر مسلم سے یہ کام کرواتا ہے لیکن ایک ایران کے لیئے دنیا بھر کے شیعوں کو زبر دستی ملا مہدی جیسا قصیدہ بھی پڑھواتا ہے اور ان سے پیسہ بھی اینٹھتا ہے اور بالکل انگریزوں کی طرح ایک ہندستانی عالم کی دوسرے ہندوستانی عالم سے ہٹائی بھی کرواتا ہے اور اسے ذلیل و خوار اور رسوا تو کرتے ہی ہیں اوپر سے ہر ایرانی ہر ہندوستانی جو چاہے کتنا بڑا ہو اسے وہ بھیکاری ہی سمجھتا ہے اور باقاعدہ کہتا ہیکہ یہ ہندوستانی بھیکاری ہوتے ہیں خدا بھلا کرے امیتاب بچن اور سلمان خان اور شاہ رخ خان کا کے ان کے نام سے آج بھارت کا مسلمان ایران میں گھس جاتا ہیکہ یہ سب چہرے ایرانیوں کی نگاہ میں بہت ہی قابل عزت اور چھہیتے ہے ۔ مولانا راجانی کو ایک ایرانی نے تہران میں صرف اس بنیاد پر آپنی کار سےاتار دیا تھا کہ وہ امیتاب بچن کو نہیں جانتے ہیں اگر ایران میں آپ نے کہہ دیا کہ میں شاہ رخ خان کو نہیں جانتا تو آپ کی ایسی کی تیسی کرینگے لیکن اگر آپ نے جھوٹ موٹ بھی کہہ دیا کہ یہ سب ایکٹرس ہمارے خاص دوست ہے تو تو پھر ایرانی عوام آپ کو بہت عزت دیگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں