25

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد فسادات کیس میں عمر گنڈا پور کی 10 دن کی ضمانت منظور کر لی

پی ٹی آئی رہنما عمر امین گنڈا پور، سابق وزیر خزانہ حماد اظہر اور قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر۔  - ٹویٹر/اے پی پی
پی ٹی آئی رہنما عمر امین گنڈا پور، سابق وزیر خزانہ حماد اظہر اور قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر۔ – ٹویٹر/اے پی پی
  • IHC نے گنڈا پور کو 5000 روپے کا بانڈ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
  • حماد اظہر نے بھی حفاظتی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔
  • اسد قیصر نے اپنے خلاف درج مقدمات کی فہرست کے لیے آئی ایچ سی سے رجوع کیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے بدھ کو پی ٹی آئی رہنما عمر امین گنڈا پور کی میانوالی میں پارٹی کے ’آزادی مارچ‘ کے دوران ہنگامہ آرائی کے الزام میں درج مقدمے میں 10 دن کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 5 روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔ 000

دوسری جانب سابق وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی لاہور میں اپنے خلاف درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کے لیے آئی ایچ سی سے رجوع کیا۔

اپنی درخواست میں اظہر نے کہا کہ اگر ضمانت مل جاتی ہے تو وہ فرار نہیں ہوں گے اور نہ ہی استغاثہ کے شواہد سے چھیڑ چھاڑ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گنڈا پور کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ درخواست کے مطابق قیصر نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں مقدمات کی فہرست فراہم کی جائے اور تفصیلات موصول ہونے تک پولیس اور فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) کو ان کی گرفتاری سے روکا جائے۔

عمران خان، شاہ محمود، اسد عمر کے خلاف 16 مقدمات درج

ہفتہ کو اسلام آباد پولیس نے پارٹی کے ’آزادی مارچ‘ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف 16 مقدمات درج کیے تھے۔

اعلیٰ حکام کے علاوہ شیریں مزاری، زرتاج گل، علی امین گنڈا پور اور راجہ خرم نواز کا نام بھی فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) میں آیا ہے۔

ان کے خلاف سڑکیں بلاک کرنے، ریاستی امور میں خلل ڈالنے، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات درج کیے گئے ہیں۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں